نئی دہلی،یکم ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سی بی آئی (سی بی آئی) کے ڈی ایس پی اجے کمار بسی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کو نوٹس جاری کیا ہے۔نوٹس کا چھ ہفتے میں جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ڈی ایس پی بسی نے اپنے پورٹ بلیئر ہوئے تبادلے کو سپریم کورٹ نے چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے بسی کی درخواست پر جمعہ کو سماعت کی۔عرضی میں اے کے بسی نے دعوی کیا ہے کہ ان کا تبادلہ بدنیتی سے حوصلہ افزائی ہے اور اس سے تفتیشی بیورو کے سابق ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے خلاف درج ایف آئی آر کی تحقیقات متاثر ہوگی۔جانچ ایجنسی کے سابق خصوصی ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں درج ایف آئی آر کی تحقیقات کرنے والے اے کے بسی نے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ جانچ ایجنسی کے عبوری ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کے استحصال کے شکار ہیں۔ساتھ ہی بسی نے عرضی میں دعوی کیا تھا کہ جانچ ایجنسی کے اندر کچھ عناصر کی نمائندگی کر رہے ناگیشور راؤ نہیں چاہتے کہ راکیش استھانہ کی ایف آئی آر کے معاملے میں درخواست گزار آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے جانچ کرے۔جانچ ایجنسی کے اس افسر نے درخواست میں کہا تھا کہ ناگیشور راؤ نے ہی 24 اکتوبر، 2018 کو بھی ان کا تبادلہ پورٹ بلیئر کیا تھا اور ایک بار پھر وہ آلوک ورما معاملے میں عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں انڈمان نکوبار بھیجا۔بسی نے اپنی درخواست میں تفتیشی بیورو کے عبوری ڈائریکٹر کے 11 جنوری کے تبادلہ کے حکم کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جانچ ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر آلوک کمار ورما کے معاملے میں عدالت کی ہدایات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔عدالت کے 8 جنوری کے فیصلے کے بعد حالانکہ آلوک ورما کو جانچ ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بحال کر دیا گیا تھا، لیکن دو دن بعد ہی انہیں اعلی سطحی کمیٹی نے بدعنوانی اور ذمہ داریوں میں لاپرواہی کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بسی سمیت ان تمام حکام جن کا ورما کو چھٹی پر بھیجنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے بعد الگ الگ مقامات پر تبادلہ کیا گیا، سے کہا تھا کہ وہ اپنے منتقلی کے معاملے میں مناسب پلیٹ فارم سے رابطہ کریں۔اس اہلکار کے مطابق ورما کی بحالی کے بعد 9 جنوری کو انہوں نے جانچ ایجنسی کے ڈائریکٹر کو ایک رپورٹ دی تھی جس پر ان کا واپس دہلی تبادلہ کر دیا گیا تھا۔بسی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ حکم ایسے افسر نے دیا ہے جو ایسے حکم دینے کے لئے کے قابل نہیں ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس حکم کا مقصد ان کا استحصال کرنا ہے اور یہ راکیش استھانہ کے خلاف15اکتوبر،2018 کو درج ایف آئی آر کی تحقیقات کو غلط طریقے سے متاثر کرنے والا ہے۔بسی نے عرضی میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ استھانہ سے متعلق ایف آئی آر کی تحقیقات کرنے والی تفتیشی ٹیم یا کسی دیگر معاملے کی تحقیقات کر رہے بیورو کی ٹیم کا حصہ بننے کا دعوی نہیں کر رہے ہیں۔